فتنہ انگیز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - فتنہ اٹھانے والا، جھگڑا پھیلانے والا، فسادی، شورش برپا کرنے والا۔ "ایسی فتنہ انگیز تقریر کے جواب کا ہمیں ضرور موقع ملنا چاہیے۔"      ( ١٩٨٧، اک محشر خیال، ٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'فتنہ' کے بعد فارسی مصدر انگیختن کے مضارع 'انگیزد' سے 'د' حذف کر کے حاصل ہونے والا صیغۂ امر انگیز بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ ١٨٩٧ء کو"تاریخ ہندوستان" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فتنہ اٹھانے والا، جھگڑا پھیلانے والا، فسادی، شورش برپا کرنے والا۔ "ایسی فتنہ انگیز تقریر کے جواب کا ہمیں ضرور موقع ملنا چاہیے۔"      ( ١٩٨٧، اک محشر خیال، ٢٧ )